Posts

اِن دونوں شخصیات کا تعلق روکھڑی خاندان سے تھا اور دونوں اپنے عروج پر گئے

Image
  پہلے میانوالی کی سیاست کے بے تاج بادشاہ گل حمید خان روکھڑی کے انتقال کی خبر آئی تو رونگھٹے کھڑے ہو گئے ۔۔۔اُن کے جنازے میں شرکت کی تو ساتھ ہی اُسی خاندان کے ایک اور روشن چراغ شفاء اللہ خان روکھڑی کے بجھنے کی خبر نے سینہ چِیر دیا۔۔۔اِن دونوں شخصیات کا تعلق روکھڑی خاندان سے تھا اور دونوں اپنے عروج پر گئے ،بے شمار لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی اور اس دنیا کو خیرباد کہ کر اچانک چلے گئے ۔میانوالی کے سیاسی حلقوں میں کہرام مچا تو ثقافتی حلقوں کی جان ہی نکل گئی۔گل حمید خان روکھڑی کے ساتھ چند خوشگوار ملاقاتیں آج بھی ذہن و دل پر نقش ہیں مگر شفاء اللہ روکھڑی کے ساتھ تو ایک عہد بیتا ہوا ہے جو بیان سے باہر ہے ۔محرم سے پہلے مجھے انہوں نے سرائیکی گیت کے لیے بُلوایا تو میں ایک سنجیدہ اور ایک عوامی(چھیڑ چھاڑ والا) گیت لے کر گیا تو انہوں نے سنجیدہ گیت کو پسند کیا ۔کافی دیر گپ شپ ہوتی رہی ۔میں اکثر زندگی کی بے ثباتی کا ذکر کرتا تھا اور وہ مجھے مزید جینے کی اُمید دلاتا تھا۔سنجیدہ گیت کو پسند کرنے کی وجہ یہ بتائی کہ یہ گیت میری زندگی کے تار وں سے جُڑا ہے اس لیے اسے ضرور ریکارڈ کروں گا ۔گیت کا ٹریک بھی ...